اسلام آباد: وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان کی نئی دفاعی حکمتِ عملی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب صرف دہشت گردی کا شکار نہیں بنے گا بلکہ حملہ آوروں کو ان کے ٹھکانوں میں نشانہ بنائے گا۔
وفاقی وزیر نے تصدیق کی کہ پاک فضائیہ نے افغانستان کے تین صوبوں میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے، جس میں 100 سے زائد فتنہ الخوارج مارے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق تمام حملے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھے اور کسی بھی سویلین کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
باجوڑ اور بنوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ کارروائیاں دفاعِ وطن کے لیے ناگزیر تھیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے طالبان رجیم کے سامنے تمام ناقابلِ تردید ثبوت اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی فہرستیں رکھیں، لیکن ان کی جانب سے کوئی سنجیدہ ایکشن سامنے نہیں آیا۔
حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اب ‘صبر کی پالیسی’ ختم ہو چکی ہے اور شہدا کے ایک ایک قطرہ خون کا حساب لیا جائے گا۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز جاری رہیں گے۔




