پاکستان
Trending

گریٹر اسرائیل ۔۔۔ تاریخ کے اوراق پر خون سے لکھی ایک المناک داستان

 

 مصطفے صفدر بیگ

 

گریٹر اسرائیل ۔۔۔ محض عالمی سیاست کا ایک باب نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق پر خون سے لکھی ایک المناک داستان ہے۔گریٹر اسرائیل کا تصور اس خواب کی طرح ہے جو کچھ صیہونی انتہا پسند حلقوں کی آنکھوں میں پھیلتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے افق پر خوف کی پرچھائیاں ڈال دیتا ہے۔

یہ وہ خواب ہے جس میں اسرائیل کی سرحدیں دریائے اردن سے بحیرہ روم تک محدود نہیں رہتیں ، بلکہ شمال میں ترکی کی دہلیز تک اور جنوب میں مصر اور سعودی عرب کے صحراؤں تک وسیع دکھائی جاتی ہیں۔

یہ خواب محض ایک جغرافیائی نقشے کا ازسرنو خاکہ بھی نہیں ہے، بلکہ یہ خواب ظلم، استبداد اور توسیع پسندی کا ایک سیاہ نوشتہ ہے جو خطے کی زمین کو مسلسل لہو سے رنگین کر رہا ہے۔

یہ نظریہ نئی صہیونی خواہش نہیں بلکہ اس بیج کا شجر ہے جو تھیوڈور ہرٹزل کے خوابوں میں پہلی بار پھوٹا تھا ۔۔ تھیوڈورو ہرٹزل نے ایک یہودی ریاست کا خواب دیکھا تھا ، لیکن وقت کی گرد نے اس خواب کے گرد انتہا پسندی کی ایسی دیوار کھڑی کردی ، جس نے امن کے دروازے بند کردیے۔

سال 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد ، یہ شجر زہر آلود پھل دینے لگا۔ فلسطینی زمین پر غیر قانونی یہودی بستیوں کے جنگل اگ آئے  اور یروشلم پر قبضے کا ناپاک پرچم لہرایا گیا ، جس کے بعد گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی تسلط کا سایہ گہرا ہوتا چلا گیا۔

یہ سب گریٹر اسرائیل کے اس نقشے کی ابتدائی لکیریں تھیں جو خون سے کھینچی جا رہی تھیں۔

دنیا اس پر کچھ بھی سوچے اور خطہ عرب کچھ بھی کہے  لیکن پاکستان نے گریٹر اسرائیل کے اس منصوبے کو ہمیشہ ٹھکرایا ہے ۔ پاکستان شروع دن سے ہی اس منصوبے کو مشرق وسطیٰ کے امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتا چلا آیا ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں یہ موقف نہایت وضاحت اور جرات کے ساتھ پیش کیا ، کہ گریٹر اسرائیل کا تصور نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہے ،  بلکہ یہ عالمی ضمیر کے خلاف ایک اعلان بغاوت بھی ہے۔

پاکستان سمجھتا ہے کہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر ڈاکہ ڈالنا ، اُن کی آزادی کو روند ڈالنا اور ان کی سرزمین کو ہتھیا لینا ، دراصل بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔

مگر یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس منصوبے نے انسانی المیے کی ایک نہ ختم ہونے والی فصل بو دی ہے۔ غزہ کی گلیوں میں معصوم بچے بھوک اور بارود کے درمیان سسک رہے ہیں۔

ہسپتالوں پر بمباری ، سکولوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینا اور انسانی امداد کے قافلوں کو روک دینا ۔۔۔۔ یہ سب کچھ اس درندگی کی ایک جھلک ہے ، جسے گریٹر اسرائیل کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے برتا جا رہا ہے۔

جیسا کہ اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں قحط کی سی کیفیت ہے ، اور دنیا کے کانوں تک یہ فریاد پہنچانے کے لیے کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ منصوبہ صرف فلسطین کے لیے نہیں ، بلکہ پورے خطے کے لیے ایک دہکتا ہوا شعلہ ہے ۔۔۔۔ لبنان، شام، اردن اور مصر ، سب اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی مشرق وسطیٰ کے نقشے کو لہولہان کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا یہ موقف کہ عرب ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی ، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اصول کا اظہار اور ایمان کا اعلان ہے۔

گریٹر اسرائیل کا خواب ایک ایسا شعلہ ہے ، جس کی تپش سرحدوں سے آگے جاتی ہے ، اور جس کے دھوئیں سے امن کا آسمان مسلسل دھندلا رہا ہے۔یہ خواب اگر حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو خطہ نہ صرف جنگوں کی بھٹی میں جھونکا جائے گا ، بلکہ عالمی امن کا قافلہ بھی اس دھوئیں میں کھو جائے گا۔

پاکستان کا یہ دوٹوک پیغام دنیا کے کانوں میں گونج رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے امن کا راستہ گریٹر اسرائیل کے خواب سے نہیں ، بلکہ فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستان کے اس دوٹوک مؤقف کی جڑیں محض سیاسی حکمت عملی میں مضمر نہیں ، بلکہ اس کی روحانی اساس میں پیوست ہیں۔ ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے پاکستان ہمیشہ سے امت مسلمہ کے دکھ سکھ کا امین رہا ہے۔

ہر پاکستانی سمجھتا ہے کہ فلسطین وہ سرزمین ہے ، جہاں سیاست محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا مقدمہ ہے ، جہاں تاریخ محض ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ مستقبل کا فیصلہ بھی ہے  اور جہاں قلم صرف لکھتا نہیں ، بلکہ دلوں کے دروازے بھی کھٹکھٹاتا ہے۔

فلسطین کا زخم ہمارے دل کا زخم ہے ، اور بیت المقدس کا اجڑا ہوا صحن ہمارے ایمان کا امتحان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فلسطین کا مسئلہ محض ایک سیاسی نکتہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا حق دیا جائے ۔۔۔۔ ایک ایسی ریاست ، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ جی ہاں ! وہی یروشلم جو صدیوں سے انبیائے کرام کی سرزمین ۔۔۔۔ اور مسلمان، عیسائی اور یہودی، تینوں مذاہب کا مرکز تقدیس بھی رہا ہے۔

دوستو! پاکستان کا یہ مؤقف صرف مذہبی غیرت کا شعلہ نہیں ، بلکہ انصاف کی وہ مشعل ہے جو ہر اندھیرے میں روشنی بانٹتی ہے۔

گریٹر اسرائیل کا منصوبہ نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے ، بلکہ پورے خطے کے امن کو یرغمال بنانے کی ناپاک کوشش بھی ہے۔

پاکستان اس سازش کو اس لیے بھی مسترد کرتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ یہ منصوبہ عالمی ضمیر، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی توہین ہے۔

پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بجا طور پر کہا ہے ۔۔۔۔ کہ گریٹر اسرائیل کا خواب امن دشمنی کا اعلان ہے اور دنیا کے لیے ایک کھلا چیلنج بھی ہے۔

پاکستان کی نظر میں مشرق وسطیٰ کا پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ جب فلسطینی عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے ۔۔۔۔ جب زخم خوردہ غزہ کی گلیوں میں پھر سے روشنی اترے گی ۔۔۔۔ جب مسجد اقصیٰ کی فضاؤں میں اذان کی صدا بے خوفی سے گونجے گی ۔۔۔۔۔

پاکستان عالمی برادری سے مسلسل استدعا کرتا آرہا ہے ۔۔۔۔ کہ وہ محض قراردادوں اور بیانات پر اکتفا نہ کرے ، بلکہ فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات بھی کرے ۔۔۔۔ جبری بے دخلی اور غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ یقینی بنائے ۔۔۔۔ اور فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق لوٹائے۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے  کہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ صرف فلسطینی عوام کے لیے موت کا پیغام نہیں ، بلکہ یہ پوری انسانیت کے امن و سکون کے لیے ایک زہر قاتل ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ انصاف، انسانی شرافت اور عالمی قانون کی بالادستی کو کسی بھی سیاسی مفاد پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔ اور یہ موقف ایک ایسی آواز ہے جو نہ صرف مشرق وسطیٰ ، بلکہ دنیا بھر کے حساس دلوں تک پہنچ رہی ہے۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس آواز کو سنجیدگی سے سنے اور اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی کھل کر مذمت، مخالفت اور مزاحمت کرے۔

فلسطینی عوام کے ساتھ انصاف تبھی ممکن ہوگا ، جب انہیں ان کا کھویا ہوا وطن ۔۔۔ ان کی آزادی ۔۔۔۔ اور ان کا سکون لوٹا دیا جائے گا ۔۔۔۔۔ اور جب گریٹر اسرائیل جیسے خوابوں کو ہمیشہ کیلئے تاریخ کے کوڑے دان میں دفن کردیا جائے گا۔

دوستو! یہی پاکستان کا پیغام ہے ، اور یہی ہر پاکستانی کا پیغام ہے ۔۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو مذہب کی حرارت، انصاف کی روشنی اور انسانیت کی حرمت سے سرشار ہے۔

 

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button