پاکستان
Trending

2025 کا کُرم —- دیرپا امن کی جستجو اور کامیابی کی داستان

 

پارا چنار : محض ایک سال پہلے، 2024 کے دوران خیبر پختونخوا کا ضلع کُرم فرقہ وارانہ کشیدگی اور جھڑپوں کے باعث پاکستان کی خبروں میں نمایاں تھا۔ تل–پارا چنار مین شاہراہ بند، بازار سنسان اور سینکڑوں بے گناہ جانیں قربان ہو چکی تھیں۔

اگست 2025 میں منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ فتنۂ خوارج سے جڑے چند چھوٹے واقعات کے سوا، امن قائم ہے، سڑکیں کھلی ہیں اور بازاروں میں زندگی کی رونق لوٹ آئی ہے۔

امن کی بحالی کیسے ممکن ہوئی؟
ضلعی انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی کوششوں سے روڈ پروٹیکشن فورس (RPF) قائم کی گئی جس نے مین شاہراہ کی سیکیورٹی سنبھالی۔ عوامی تعاون سے ہزاروں کی تعداد میں اسلحہ ریاست کے حوالے کیا گیا اور مقامی آبادی نے 983 غیر قانونی بنکرز ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

ٹریفک اور بازاروں کی بحالی
ٹل-پارا چنار شاہراہ پر ٹریفک رواں دواں ہے، تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں اور بگن بازار دوبارہ آباد ہے۔

مقامی قیادت اور حکومت کا کردار
مقامی مشران، قبائلی عمائدین اور مذہبی رہنماؤں نے امن مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں نے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت سیکیورٹی اور اعتماد سازی کے اقدامات کیے۔

کُرم میں امن کی یہ بحالی نہ صرف مقامی آبادی کے لیے سکون کا باعث ہے بلکہ یہ ایک ایسی مثال بھی ہے کہ ریاستی ادارے، عوام اور مقامی قیادت مل کر دیرپا امن کے لیے کس طرح کامیاب حکمتِ عملی وضع کر سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button