دبئی: آج متحدہ عرب امارات کا 54 واں قومی دن بڑے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں مختلف تقریبات اور جشن کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں دبئی، ابو ظہبی اور دیگر ریاستوں میں آتشبازی، ثقافتی پروگرامز اور دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔ یہ دن اماراتی قوم کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، اور پورے ملک میں خوشی کا ماحول ہے۔
اس موقع پر پاکستانی برادری نے بھی بھرپور طریقے سے جشن میں حصہ لیا اور دبئی کو مزید سرسبز بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کا یہ پیغام ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تعلقات اور محبت کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے حوالے سے سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کے لیے دو دن کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ وہ اس جشن میں شرکت کر سکیں اور اپنے قومی دن کو خوشی کے ساتھ منائیں۔
یہ دن 2 دسمبر 1971 کو ایک تاریخی لمحے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب ابو ظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، ام القوین، راس الخیمہ اور فجیرہ نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر متحدہ عرب امارات کا قیام عمل میں لایا تھا۔ اس کے بعد سے ہر سال 2 دسمبر کو یہ دن منایا جاتا ہے تاکہ اس تاریخی اتحاد اور ترقی کے سفر کی کامیابیوں کو یاد کیا جا سکے۔
اسلام آباد سے وزیراعظم محمد شہبازشریف نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مضبوط برادرانہ روابط، مذہبی و ثقافتی اقدار اور باہمی محبت پر استوار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی خیرسگالی، محبت اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں، جو دونوں کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
شہبازشریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تعلقات شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کی بصیرت افروز قیادت کی بدولت قائم ہوئے، جنہوں نے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان مضبوط دوستی کی بنیاد رکھی۔ دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں، اور دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون میں مزید ترقی کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور افہام و تفہیم کی فضا قائم ہے، جو باہمی الفت اور دوستی کا روشن ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ روابط دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی اور کامیابی کی راہیں ہموار کریں گے.




