کراچی :مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہونے اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو تاریخ کے بدترین بحران میں دھکیل دیا ہے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اور انڈیکس میں 15 ہزار سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ کمی واقع ہوئی۔
آج صبح جیسے ہی ٹریڈنگ کا آغاز ہوا، عالمی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر سرمایہ کاروں میں شدید تشویش دیکھی گئی۔مارکیٹ کھلتے ہی فروخت کا اس قدر شدید دباؤ دیکھا گیا کہ KSE-100 انڈیکس چند ہی منٹوں میں 15,000 پوائنٹس سے زائد گر گیا۔ انڈیکس میں تقریباً 9 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے مالیاتی ماہرین پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ‘سنگل ڈے مارکیٹ کریش’ قرار دے رہے ہیں۔
منفی رجحان کی شدت کو دیکھتے ہوئے ریگولیٹری قوانین کے تحت مارکیٹ میں ہنگامی اقدامات کیے گئے۔
انڈیکس میں مقررہ حد سے زیادہ کمی کے باعث "مارکیٹ ہالٹ” نافذ کر دیا گیا اور ٹریڈنگ کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔ اس اقدام کا مقصد غیر یقینی صورتحال کو قابو کرنا اور سرمایہ کاروں کو سنبھلنے کا موقع فراہم کرنا تھا.تقریباً ایک گھنٹے کے تعطل کے بعد جب ٹریڈنگ دوبارہ بحال ہوئی، تو نچلی سطح پر کچھ خریداری کے باعث مارکیٹ نے سانس لی۔مارکیٹ نے نچلی سطح سے 2,000 پوائنٹس کی ریکوری کی، جس کے بعد کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس 1 لاکھ 54 ہزار 150 کی سطح پر ٹریڈ کرتا ہوا دیکھا گیا۔




