کراچی : وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام ملک کی مضبوطی کا باعث بنے گا، اسے تقسیم سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ کراچی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اب روایتی ڈگریوں کے بجائے "ہنر مند افرادی قوت” پر توجہ دینی ہوگی۔
خالد مقبول صدیقی نے انتظامی تقسیم پر بات کرتے ہوئے کہا نئے صوبے بنانے سے پاکستان کی وحدت کو کوئی خطرہ نہیں، بلکہ اس سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نئے صوبوں کی بات خود پیپلز پارٹی بھی کر چکی ہے، یہ ایک حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔
ملک کی 60 فیصد نوجوان آبادی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دو بڑے ہمسایوں نے اپنی بڑی آبادی کو ہنر سکھا کر معاشی ترقی حاصل کی، ہمیں بھی اسی نقشِ قدم پر چلنا ہوگا۔دورِ جدید میں صرف ڈگریاں کافی نہیں، اب تعلیمی معیشت (Education Economy) کا دور ہے جہاں ہنر مند نوجوان ہی ملک کا مقدر بدل سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ چالیس سالوں سے ہمارا خطہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن پاکستان اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کریں اور نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق فنی تربیت فراہم کریں۔




