سابق وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے ایک پر معلوماتی تھریڈ لکھا ہے جس میں انہوں نے چینی درآمد کرنے کے حوالے سے فیصلے پرسوالات اٹھائے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے اپنے تھریڈ میں لکھا کہ عام آدمی کے لیے قیمت کو کنٹرول کرنے کے نام پر تقریباً 300 ملین ڈالر مالیت کی چینی درآمد کرنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔ عام آدمی چینی کا سب سے بڑا صارف نہیں ہے۔ درحقیقت یہ خوراک اور مشروبات کی صنعت ہے جو چینی کا سب سے بڑا صارف ہے۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید لکھا کہ عام آدمی کو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ وہی لوگ تھے جو پہلے زرِمبادلہ کمانے کے نام پر برآمدی آرڈرز حاصل کرتے رہے اور اب وہی زرِمبادلہ اپنے لیے خرچ کر رہے ہیں، جب کہ انہوں نے برآمدات اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہیرا پھیری کر کے بھاری منافع کمایا۔ پاکستان میں فی کس چینی کا سالانہ استعمال 28 کلو گرام ہے۔
فواد حسن فواد نے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے لکھا کہ اس سب کے علاوہ، چینی ایک انتہائی نقصان دہ چیز ہے جو عوام استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ شے نہیں جس پر قیمتی زرِمبادلہ خرچ کیا جائے۔ آج عام لوگ نہ مشروبات افورڈ کر سکتے ہیں اور نہ ہی مٹھائیاں، لیکن پھر بھی ہم ان کے نام پر درآمد کرنا چاہتے ہیں، اور پھر مزید زرِمبادلہ قرض لے کر پورا کرنا چاہتے ہیں۔
قیمتوں پر کنٹرول حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اگر حکومت اس میں ناکام ہو گئی ہے تو یہ مزید درآمد کا جواز نہیں بن سکتا۔ حکومت بنیادی مسئلے پر کیوں توجہ نہیں دے رہی؟ قیمتوں میں اضافے میں چینی انڈسٹری، مڈل مین اور تاجروں کے کردار کی چھان بین ضروری ہے، نہ کہ مزید درآمدات۔
ویسے، اُن لوگوں کا کیا بنا جنہوں نے برآمدات کی اجازت دی تھی؟ اور ہاں، ایف بی آر کہاں ہے؟
0 23 1 minute read




