امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی واشنگٹن واپسی کا مقصد صرف اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرنا نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ اس تنازع کا حقیقی اور مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔
میکرون کے دعوے کی تردید
ٹرمپ نے اپنی ٹرُتھ سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ میکرون نے غلط فہمی میں کہا کہ وہ کینیڈا میں جی 7 اجلاس چھوڑ کر سیزفائر کے لیے واپس جا رہے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انہوں نے میکرون کو "تشہیر کا طلبگار” بھی قرار دیا اور خبردار کیا کہ وہ اکثر باتیں غلط کرتے ہیں۔
ایٹمی مسئلے کا حل اور خطے کی صورتحال
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایٹمی مسئلے کا حقیقی حل چاہتے ہیں اور امکان ہے کہ اعلیٰ امریکی حکام کو ایران سے بات چیت کے لیے بھیجا جائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل ایران پر حملے روکنے والا نہیں اور اگلے چند دنوں میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ صرف جنگ بندی نہیں چاہتے بلکہ "ایک حقیقی اختتام” چاہتے ہیں، جس میں ایران کی مکمل ہتھیار ڈالنے کی ضرورت ہو۔
خطے میں کشیدگی اور ہلاکتیں
ایران اور اسرائیل کے درمیان فضائی جنگ جمعے کو شروع ہوئی، جس میں اب تک 220 سے زائد ایرانی اور 24 اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تنازع مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف پرامن جوہری پروگرام چلا رہا ہے۔




