ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں میں جاری شدید برفباری نے سردی کی لہر کو مزید تیز کر دیا ہے، جبکہ متعدد مقامات پر کئی دہائیوں بعد برف پڑنے کے ریکارڈ سامنے آئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں 80 سال بعد برفباری ریکارڈ کی گئی، جب کہ مالاکنڈ کے پہاڑی علاقوں میں 20 برس بعد برف پڑی ہے۔
صوابی میں تین سال بعد 6 انچ تک برفباری ہوئی، جبکہ چترال، لوئر دیر، بابو سر ٹاپ، ناران، کاغان اور ملحقہ علاقوں میں شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں جن میں کوئٹہ، زیارت اور چمن شامل ہیں، میں بھی بھاری برفباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
شدید سردی کے باعث جھیلیں اور آبی ذخائر منجمد ہو گئے ہیں، جبکہ گھروں میں پانی کی ٹینکیاں اور نلکے بھی جم گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں دو سے تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے علاقوں چکوٹھی، لیپا ویلی، گنگا چوٹی اور دیگر مقامات پر برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر ملکہ کوہسار مری میں ڈیڑھ فٹ تک برفباری ریکارڈ ہونے کے بعد انتظامیہ نے مری جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں، جبکہ بہارہ کہو اور سترہ میل پر رکاوٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری اور گردونواح میں مزید شدید برفباری کا الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت کی ہے، جبکہ اسلام آباد پولیس نے سیاحوں کو مری کا رخ نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔




