پاکستان
Trending

سانحہ گل پلازہ: 80 ہلاکتوں پر سندھ حکومت کا سخت ایکشن، جوڈیشل انکوائری کا حکم، چیف انجینئر سمیت کئی افسران معطل

 

کراچی: کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 80 قیمتی جانوں کے ضیاع پر سندھ حکومت نے بڑے پیمانے پر انتظامی تطہیر کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا اعلان کرتے ہوئے واٹر بورڈ اور سول ڈیفنس کے اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے اعتراف کیا کہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران پانی کی فراہمی میں مجرمانہ تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ اس سنگین کوتاہی پر درج ذیل کارروائی کی گئی ہے۔ چیف انجینئر بلک (واٹر بورڈ) پانی کی بروقت فراہمی یقینی نہ بنانے پر معطل۔ ڈائریکٹر سول ڈیفنس (ضلع جنوبی)حفاظتی قوانین پر عملدرآمد نہ کروانے پر معطل کردیے گئے ہیں۔ ہائیڈرنٹ انچارج (KW&SB) غفلت برتنے پر عہدے سے فارغ ہوگئے ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ 1200 دکانوں پر مشتمل اس عمارت میں آتشزدگی کے وقت 2500 کے قریب لوگ موجود تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں زندگیاں بچائیں، تاہم 80 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ عمارت میں اپنا کوئی فائر فائٹنگ سسٹم موجود نہیں تھا، جو کہ بلڈنگ انتظامیہ کی سنگین لاپرواہی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق محکمہ سول ڈیفنس نے 2023 سے اب تک کئی بار گل پلازہ کا معائنہ کیا اور دو بار تحریری نوٹسز بھی جاری کیے، مگر ان پر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔ شرجیل میمن نے واضح کیا کہ کے ایم سی کی آگ بجھانے کی صلاحیت ناکافی تھی اور اب جوڈیشل انکوائری کے ذریعے ہر اس افسر کا تعین کیا جائے گا جس کی غفلت سے یہ سانحہ پیش آیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button