پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر سوراب میں گذشتہ روز مسلح افراد کے حملے کے دوران زندگی کی بازی ہارنے والے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی کے چھوٹے بھائی عنایت اللہ بلیدی کا کہنا ہے کہ ان کی ناگہانی موت سے ایسا لگتا ہے جیسے ان سے ’سب کچھ چھین لیا گیا ہو۔‘
ہدایت اللہ بلیدی کی لاش سنیچر کے روز بذریعہ ہیلی کاپٹر ضلع کچھی میں ان کے آبائی علاقے بھاگ ناڑی پہنچائی گئی جہاں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی گئی۔
عنایت اللہ بلیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہدایت اللہ بلیدی نہ صرف ان کے لیے بلکہ ’پورے خاندان کے لیے ایک مضبوط دیوار کی طرح بہت بڑا سہارا تھے لیکن اللہ نے ان کو ہم سے واپس لے لیا۔‘
بلوچستان کے شہر سوراب میں جمعے کے روز مسلح افراد کے حملے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہوئے جبکہ عسکریت پسندوں نے متعدد سرکاری عمارات کو بھی نذر آتش کیا۔
سرکاری حکام کے مطابق 60 سے زائد مسلح افراد شہر میں داخل ہوئے اور دو گھنٹے سے زائد تک شہر کے بعض اہم حصے ان کے کنٹرول میں رہے جن میں سرکاری دفاتر بھی شامل تھے۔




