یوکرین نے روس کے متعدد فضائی اڈوں پر 40 سے زائد روسی بمبار طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کے دورانیے میں حالیہ حملے سب سے خطرناک اور شدید قرار دیے جا رہے ہیں۔
یوکرین کی خفیہ ایجنسی ایس بی یو کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کارروائی کو سپائڈر ویب (مکڑی کا جالہ) کا نام دیا گیا تھا اور اس کی نگرانی خود صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے ڈیڑھ سال کی منصوبہ بندی کے بعد کیے گئے ہیں۔
اس حملے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون حملوں کے بعد آگ کے شعلوں نے جنگی طیاروں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
ان ڈرونز کو لکڑی کے موبائل کیبنز میں چھپایا گیا تھا جن کی چھتیں آٹومیٹک ہوتی ہیں اور انھیں فاصلے سے کھولا جا سکتا ہے۔ یہ کیبنز ٹرکوں پر رکھے گئے تھے جو فضائی اڈوں کے قریب پہنچا دیے گئے اور پھر مناسب وقت پر حملہ کیا گیا۔




