دوحہ: وزیراعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کے درمیان ہونے والی ملاقات نے پاک قطر تعلقات کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا، جس کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تعاون پر خصوصی بات چیت۔
دفاعی پیداوار میں اشتراک اور قطر کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی افرادی قوت کے کردار کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق۔
دونوں اسلامی ممالک کے درمیان عوامی سطح پر ثقافتی تبادلوں کے فروغ کا عزم۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر کی تعمیری سفارت کاری اور مصالحتی کردار کی تعریف کی۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ہی پنہاں ہے۔
ملاقات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ ان کی موجودگی نے دفاعی اور اقتصادی روابط کو مزید تقویت بخشی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سیاسی اور ادارہ جاتی روابط پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان اور قطر علاقائی و عالمی مسائل پر مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔




