اسلام آباد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی پر بھارتی وزارت خارجہ کے ردعمل کو ‘اقرارِ جرم’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کیا کہ بھارت کا بیان ان تخریبی سرگرمیوں میں اس کے براہِ راست ملوث ہونے کے پاکستانی مؤقف کی کھلی تصدیق ہے۔ترجمان نے سمجھوتہ ایکسپریس سانحے کے 19 برس مکمل ہونے پر بھارتی عدالتی نظام کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز سوامی آسیم آنند اور حاضر سروس بھارتی فوجی افسر کرنل پروہت نے خود اپنے جرم کا اعتراف کیا، مگر بھارت نے انہیں سزا دینے کے بجائے تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔
70 سے زائد بے گناہ افراد کے قاتلوں کا آزاد گھومنا ثابت کرتا ہے کہ بھارت خطے میں دہشت گردی کا اصل سرپرست ہے۔بریفنگ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دورہ جدہ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ وہ 26 فروری کو او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے اور اسے ریاستی اراضی میں بدلنے کے صیہونی عزائم کے خلاف پاکستان کا سخت مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر وہ برادر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ علاقائی امن و امان پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
ترجمان نے وزیراعظم کے دورہ قطر کو گیم چینجر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امیر قطر نے پاکستان میں اعلیٰ سطح کی اقتصادی سرمایہ کاری اور شراکت داری کو فروغ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے دور رس اثرات جلد معیشت پر ظاہر ہوں گے۔




