واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی نئی اور سخت ترین پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو "غیر مشروط سرینڈر” سے مشروط کر دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک بیان میں ٹرمپ نے تہران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب بات چیت کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے لیے "غیر مشروط سرینڈر” کے علاوہ کوئی ڈیل میز پر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے ایک "عظیم اور قابلِ قبول رہنما” کے انتخاب کو مستقبل کے تعاون کی بنیاد قرار دیا ہے، جو موجودہ ایرانی سیٹ اپ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
صدر کا کہنا ہے کہ سرینڈر کی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کو "تباہی کے دہانے” سے نکالنے میں مدد کریں گے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی شرائط ماننے کے بعد ایران کو معاشی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور خوشحال ملک بنایا جائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایرانی حملوں اور روسی انٹیلی جنس تعاون کی خبروں نے ہیجان پیدا کر رکھا ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر کسی بھی قسم کی "نرم سفارت کاری” کے بجائے "انتہائی دباؤ” (Maximum Pressure) کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں۔




