یروشلم: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں سے واپسی ناممکن نظر آتی ہے۔ ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ میزائل حملوں نے جنوبی اسرائیل کے شہر ‘عراد’ (Arad) کی زمین ہلا کر رکھ دی ہے، جس کے نتیجے میں 9 ہلاکتوں اور 150 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت شہر کے مرکزی چوک اور تفریحی مقامات پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو شام کی چہل قدمی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ اچانک ہونے والے زوردار دھماکوں نے ہنستے بستے شہر کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق میزائلوں کے گرنے سے کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور پورا شہر چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔
اس حملے نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ ایشیا سے یورپ تک کے دفاعی ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ ایران کے ان جدید میزائلوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اب سرحدیں محفوظ نہیں، جس سے یورپی ممالک میں بھی دفاعی خطرات بڑھ گئے ہیں۔حملے کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے اس حملے کو حالیہ تاریخ کا بدترین حملہ قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی تصدیق کی ہے۔ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور دبے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر خون کے عطیات کی اپیل کی جا رہی ہے۔




