واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے کی نوید سناتے ہوئے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے مؤخر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایرانی حکام اور واشنگٹن کے درمیان جاری بات چیت "مثبت اور تعمیری” مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے محکمہ جنگ (Department of War) کو باضابطہ ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کی کارروائی کو اگلے 5 دن کے لیے روک دیا جائے۔ امریکی صدر نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے "مکمل اور حتمی حل” کے لیے تفصیلی اور گہری گفتگو ہو رہی ہے، جو پورا ہفتہ جاری رہے گی۔
صدر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اب تک کے نتائج حوصلہ کن ہیں اور یہ ملاقاتیں خطے میں پائیدار امن اور مثبت نتائج پر ختم ہوں گی۔
سیاسی مبصرین اس اقدام کو صدر ٹرمپ کی "پریشر ڈپلومیسی” کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جہاں طاقت کے استعمال کی دھمکی کو مذاکرات کی میز پر رعایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ توانائی کے مراکز کو نشانہ نہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین کسی بڑے معاشی اور سیاسی سمجھوتے کے قریب ہیں۔





