اسلام آباد : پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کے لیے اپنی "امن مشن” سفارت کاری کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں، جس میں عسکری حکام اور وفاقی وزراء شریک تھے، خلیجی جنگ کے تصفیے کے لیے پاکستان کو ایک مرکزی میزبان کے طور پر پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کی اب تک کی سفارتی کاوشوں پر تفصیلی بریفنگ دی، جس کے بعد درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان، ایران اور امریکہ سمیت تمام متعلقہ فریقین کے درمیان "اسلام آباد ڈائیلاگ” کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ مذاکرات کے لیے تمام سفارتی اور سیکیورٹی انتظامات کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خلیجی جنگ کا خاتمہ نہ صرف عالمی امن بلکہ پاکستان کی معاشی اور سرحدی سلامتی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
اس اہم مشن کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف آج رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ایک اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں اعلیٰ سطح اجلاس کے فیصلوں پر صدر کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ملکی سطح پر ایک مضبوط اور متحد موقف کے ساتھ عالمی برادری سے رابطہ کیا جا سکے۔




