بین الاقوامی
Trending

افغانستان میں انسانی المیہ: طالبان رجیم کی ترجیحات میں عوامی فلاح کے بجائے دہشت گردی کو اولیت

 

کابل: افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک کا سماجی اور معاشی ڈھانچہ ریت کی دیوار ثابت ہو رہا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، طالبان رجیم کی نااہلی نے جہاں معیشت کو تباہ کیا، وہیں اب افغانستان کا پورا سماجی نظام بھی بکھرنے کے قریب ہے۔ رجیم کی جانب سے افغان عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کرتے ہوئے تمام تر توجہ عسکریت پسندوں کی پشت پناہی پر مرکوز کر دی گئی ہے۔
طالبان کی انتظامی غفلت نے افغانستان کے شعبہ صحت کو وینٹی لیٹر پر پہنچا دیا ہے۔ ہسپتالوں میں بجلی، پانی اور بنیادی ادویات تک دستیاب نہیں۔ ڈاکٹرز اور نرسیں کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں، جس کے باعث طبی مراکز بند ہو رہے ہیں۔بین الاقوامی امداد پر پابندیوں اور طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے عام شہریوں کو علاج معالجے سے محروم کر دیا ہے، جس سے اموات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
عالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے پورے خطے کی سلامتی داؤ پر لگ گئی ہے۔ عوامی تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے کے بجائے دستیاب وسائل کو مسلح گروہوں کی تربیت اور تنظیم نو پر صرف کیا جا رہا ہے۔
افغانستان اس وقت دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جہاں آدھی آبادی (خواتین) کو تعلیم اور کام سے روک دیا گیا ہے۔ انتہا پسندانہ قوانین نے افغان معاشرے میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ طالبان کی دہشت گردوں کے لیے ہمدردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے افغانستان کے لیے عالمی برادری کے دروازے بند کر دیے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button