نیویارک/نئی دہلی: عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ’ایکسز ناؤ‘ (Access Now) کی تازہ ترین رپورٹ نے بھارتی جمہوریت کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت ایک بار پھر دنیا بھر میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ بند کرنے والا ملک قرار پایا ہے، جہاں مودی سرکار نے ‘ڈیجیٹل انڈیا’ کے نعرے کو ‘ڈیجیٹل بلیک آؤٹ’ میں تبدیل کر دیا ہے۔
’ایکسز ناؤ‘ کی رپورٹ میں بھارتی حکومت کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔بھارت مسلسل پانچویں سال بھی انٹرنیٹ معطل کرنے والے بدترین ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ بھارت کی 12 ریاستوں اور علاقوں میں بار بار انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں، جس کا مقصد احتجاج کو کچلنا اور حکومتی مظالم کو دنیا کی نظروں سے چھپانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، انتہا پسند نظریات کی وجہ سے پیدا ہونے والے لسانی اور مذہبی فسادات کے دوران حقائق کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ کو بطور ‘ہتھیار’ استعمال کیا گیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ایک طرف خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے اور دوسری طرف آمریت کی بدترین مثالیں قائم کر رہا ہے۔ "انٹرنیٹ کی بندش مودی سرکار کا وہ حربہ ہے جس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر، منی پور اور پنجاب جیسے علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔عالمی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں معلومات تک رسائی کو سیاسی مقاصد کے لیے قربان کیا جا رہا ہے۔آن لائن تجارت اور فری لانسنگ سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔شہریوں کا اظہارِ رائے اور معلومات کے تبادلے کا بنیادی حق پامال کیا جا رہا ہے۔بھارت کا یہ رویہ اسے جمہوری ممالک کی صف سے نکال کر آمرانہ ریاستوں کے قریب لا رہا ہے۔ ’ایکسز ناؤ‘ کی یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک چارج شیٹ ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ بھارت میں ڈیجیٹل آزادی دم توڑ رہی ہے اور ریاست اپنے ہی شہریوں کی آواز دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کا منفی استعمال کر رہی ہے۔




