بیجنگ :چین نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کو شدید تحمل کا مشورہ دے دیا ہے۔ بیجنگ نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کو سراہتے ہوئے اسے خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک ناگزیر پیش رفت قرار دیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کے حوالے سے دو ٹوک موقف اپنایا ہے۔ چینی حکام نے کہا عالمی توانائی کی ترسیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ چین توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے گریز کیا جائے۔
چین نے عالمی برادری اور فریقین کے سامنے تین اہم نکات رکھے ہیں۔ لبنان اور دیگر محاذوں پر ہونے والی جنگ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے۔ صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی طور پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ آبنائے ہرمز کے حساس معاملے پر کوئی بھی فریق اشتعال انگیزی نہ کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات کو "مثبت” قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں ایک مرکزی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ چین کا یہ بیان امریکہ کے لیے ایک سفارتی اشارہ ہے کہ وہ کسی بھی یکطرفہ ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا۔




