اسلام آباد: ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق قومی مباحثے میں سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور سابق وفاقی وزرا نے ملک میں انتظامی اصلاحات، نئے صوبوں کے قیام اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مقررین نے کہا کہ آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام ناگزیر ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اور مسائل حل نہ ہونے کے باعث لوگ ناراض ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں اور وفاق سے صوبوں کو ملنے والے وسائل نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہئیں۔
پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نئے صوبوں کی بحث دوبارہ شروع ہونا اچھی بات ہے، تاہم اس معاملے پر آئینی فریم ورک کے اندر رہ کر پیش رفت کرنا ہوگی۔ لوکل گورنمنٹ نظام میں موجود خامیوں کو دور اور اسے آئینی تحفظ دے کر بااختیار بنانا ضروری ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ سیاسی اور انتظامی تبدیلی کے لیے نئے صوبے بنانا ہوں گے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ پاکستان کو نئے صوبوں اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اصلاحات کے لیے نیشنل کمیشن تشکیل دیا جائے جبکہ اختیارات منتقل کرنے کے لیے بلدیاتی حکومتوں کو بھی بااختیار بنایا جائے۔ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں ضروری ترامیم کرنا ہوں گی۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ عوام کو اچھی حکومت ملنا ان کا حق ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے اخراجات بڑھنے کے بجائے کم ہوسکتے ہیں اور حکمرانی کا نظام بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں جتنی مرکزیت بڑھے گی ملک اتنا کمزور ہوگا، جبکہ عوام کو جتنا بااختیار بنایا جائے گا ملک اتنا مضبوط ہوگا۔
مباحثے میں ندیم افضل چن، لیاقت بلوچ، نورالحق قادری، سلمان اکرم راجہ، ڈاکٹر فرخ، محمد علی درانی اور دیگر مقررین نے بھی اظہار خیال کیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہے۔




