پاکستان
Trending

اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو ملکی ترقی سے جوڑنے کی ضرورت ہے، چیئرمین ایچ ای سی

 

لاہور: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو ملک کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، جبکہ تحقیق کا رخ اپلائیڈ سائیڈ کی طرف موڑ کر اس کے نتائج کو سماجی اور معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ عالمی مقابلوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں اور بڑی تعداد میں سکالرشپس حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیکل اور انجینئرنگ کے کئی بہترین ادارے موجود ہیں جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستانی ادارے اور اساتذہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پرانے اداروں کے ساتھ نئے تعلیمی ادارے بھی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ پاکستانی تعلیمی نظام یورپ میں مسلسل پانچویں سال بھی دنیا میں سرفہرست رہا ہے۔ دنیا کی نمبر ون یونیورسٹی نے پاکستانی ڈگریوں کو تسلیم کیا ہے جبکہ ایم آئی ٹی میں اس وقت پاکستان کے تین طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد کے مطابق رواں سال پاکستان سے 1450 ڈاکٹرز امریکہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی قابلیت منوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کی جانب سے ٹیلنٹ ہنٹ اسکیم دوبارہ شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کے تحت او اور اے لیول کے طلبہ کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اس اسکیم سے مستفید ہونے والے ایک طالب علم نے بائیولوجی میں عالمی سطح پر گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔

چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ کراچی سے گلگت تک سفر کے دوران انہوں نے نوجوانوں میں بے پناہ پوٹینشل دیکھا۔ ہمیں اپنے طلبہ کو پڑھائی اور تحقیق کی طرف لانا ہوگا تاکہ ان کی صلاحیتوں کو ملکی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز اور ریکٹرز کی خدمات کو سراہنا ضروری ہے۔ رواں سال ڈوئل اور جوائنٹ ڈگری پروگرام شروع کیے گئے ہیں جبکہ لبرل آرٹس پالیسی بھی تعلیمی اداروں میں کام کر رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد نے مزید بتایا کہ عالمی اسکالرز کے ساتھ اشتراک کے لیے ایک پورٹل بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی جامعات اور عالمی ماہرین کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق، تعلیم اور عالمی روابط کو مضبوط بنا کر پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button