اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد، پاکستان نے علاقائی استحکام کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے پارلیمانی رہنماؤں کے اہم اجلاس میں یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنے کے لیے اپنا فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
دفترِ خارجہ کے حکام نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اور ایران پر حملوں کی فوری مذمت کر کے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ بریفنگ میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاک ،افغان سرحد اور خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کا وسیع تر مفاد سیاسی اختلافات سے بالاتر ہے۔اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر پارلیمانی رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اس اہم ترین قومی سلامتی بریفنگ میں پاکستان تحریکِ انصاف (PTI)، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی عدم شرکت کو سیاسی حلقوں میں حیرت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حساس عالمی معاملات پر اپوزیشن کی غیر حاضری سے قومی اتحاد کے تاثر کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
اجلاس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سپیکر ایاز صادق، اسحاق ڈار، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، شیری رحمان، انوار الحق کاکڑ اور دیگر وفاقی وزراء سمیت اہم پارلیمانی ارکان نے شرکت کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو دہرایا۔




