پاکستان
Trending

گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی، 15 سال میں عوام کو 3.5 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی، اویس لغاری

صنعتی بجلی کے نرخ 8.5 سے 9 سینٹ فی یونٹ تک لانے کا ہدف، 8 ہزار میگاواٹ کے غیر ضروری منصوبے منسوخ کردیے، وفاقی وزیر توانائی

 

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی کی ہے، جبکہ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں آئندہ 15 سال میں عوام کو 3.5 ٹریلین روپے کی بچت ہوگی۔ حکومت صنعتی بجلی کے نرخ 8.5 سے 9 سینٹ فی یونٹ تک لانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔

نسٹ یونیورسٹی میں نیشنل انرجی سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کے تحت مسابقتی بجلی مارکیٹ متعارف کرا دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پہلا آر ایف پی جاری ہوچکا ہے، جبکہ آئندہ چند ماہ میں 400 میگاواٹ بجلی ٹرانسمیشن گرڈ پر منتقل کی جائے گی۔ صارفین کو ایک میگاواٹ تک اپنی بجلی خود خریدنے کی سہولت فراہم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کے وہیلنگ چارجز 28 روپے سے کم کرکے تقریباً 11 سے 12 روپے فی یونٹ کردیے گئے ہیں۔ گزشتہ دو سال کے دوران گردشی قرضے میں اضافے کو روکا گیا، جبکہ 780 ارب روپے کی کمی کے بعد قرضہ 2,400 ارب روپے سے کم ہوکر تقریباً 1,680 ارب روپے رہ گیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاور ڈویژن کا قومی بجٹ پر بوجھ 1.2 ٹریلین روپے سے کم کرکے 2027 تک 700 ارب روپے تک لانے کی توقع ہے۔ اس طرح قومی بجٹ پر تقریباً 500 ارب روپے کا دباؤ کم ہوگا۔ بجلی کے بلوں کی مجموعی وصولی کی شرح بھی 93 فیصد سے بڑھ کر 97 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ پنجاب کی تقسیم کار کمپنیوں نے 100 فیصد ریکوری حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات 591 ارب روپے سے کم کرکے تقریباً 330 ارب روپے سے نیچے لائے گئے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹیگریٹڈ سسٹم پلان تیار کرکے نیپرا سے منظور کرایا گیا، جس کے تحت 8 ہزار میگاواٹ کے غیر ضروری بجلی منصوبے منسوخ کیے گئے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں عوام پر پڑنے والے 17 ارب ڈالر کے مالی بوجھ سے بچنے میں مدد ملے گی۔

اویس لغاری نے کہا کہ صنعتی بجلی کے نرخ کم کرنے کا مقصد ملکی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی اور عالمی منڈی میں ان کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ گزشتہ سال گرڈ پر پیدا ہونے والی 76 فیصد بجلی مقامی وسائل سے حاصل کی گئی، جبکہ 2036 تک بجلی کی 94 فیصد ضروریات مقامی اور سستے ذرائع سے پوری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے بجلی کے نظام میں 56 فیصد سے زائد بجلی صاف اور ماحول دوست ذرائع سے پیدا ہورہی ہے۔ حکومت 2036 تک نظام میں 10 ہزار میگاواٹ ہائیڈل بجلی شامل کرنے اور اگلے دس سال میں 22 ہزار میگاواٹ ڈسٹری بیوٹڈ سولر انرجی کے حصول کا ہدف رکھتی ہے۔ درآمدی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کوئلے پر منتقل کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اویس لغاری نے کہا کہ اس کی یکطرفہ معطلی قابل قبول نہیں، پانی روکنے کا اقدام جنگ تصور ہوگا اور بھارت کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا نیا انٹیگریٹڈ انرجی پلان توانائی، معیشت، مساوات اور ماحولیات کے چار بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے میں بجلی کے ساتھ تیل، گیس، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button