کراچی کے ڈیفنس فیزسکس سے ماڈل وادکارہ حمیرااصغرکی لاش ملنے کا کیس آئے روز حیرت انگیز انکشافات کا ایک نیا در کھول رہا ہے۔ اگرچہ ماڈل کی موت کاتاحال تعین نہیں ہو سکا مگر پولیس ہر زاویے سے تفتیش کر کے امکانات کی تلاش میں ہے۔ ڈی آئی جی جنوبی اسدرضا کہتے ہیں کہ تین دن قبل عدالتی بیلف کے ہمراہ جب فلیٹ کا دروازہ توڑکر کھولا حمیرا اصغر کی لاش ملی۔ جائے وقوعہ کے شواہد اور باڈی سیمپل جمع کئے گئے۔
ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے بتایا کہ ہتھیار یا کسی زبردستی یا خون کے نشان نہیں ملے۔ گھر کی تلاشی کے دوران اور فریج میں موجود چیزیں بھی دیکھیں، کھانے پینے کی اشیاء کی ایکسپائری ستمبر دو ہزار چوبیس کی تھی۔ اسد رضا کے بقول حمیرا اصغر کے دو فون تھے، دونوں میں آخری بار رابطہ ستمبر 2024 میں ہوا تھا۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ باڈی کا لیول آف ڈی کمپوزیشن دیکھیں تو لگتا ہے چھ ماہ پرانی لاش ہے۔ کچھ ایسا نہیں ملا، جسکی بنیاد پر یہ مفروضہ قائم کیا جا سکے کہ کوئی کریمنل ایکٹیویٹی ہے۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ تفتیش جاری ہے، کرائم کے ثبوت ملیں گے تو ضرور کارروائی کریں گے
اسد رضا کےمطابق بیالیس سالہ اداکارہ و ماڈل پانچ سالوں سے یہاں رہ رہی تھیں۔ گذشتہ دس ماہ سے کرایہ ادا نہیں کیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فائن آرٹس کی طالبہ حمیرا کے تین بہن بھائی ہیں۔ پولیس نے بیٹی کی لاش کے لئے شروع میں والدین سے رابطہ کیا مگر وہ راضی نہ تھے۔ تاہم پولیس نے قائل کیا ہے جس کےبعد خاتون کے بھائی آرہے ہیں۔ گھر والے تدفین پر راضی نہ ہوئے تو باڈی دفنانےکےلیےکلچر ڈپارٹمنٹ کے حوالے کردیں گے
0 11 1 minute read




