بین الاقوامی

اسرائیلی فوج کا ایران میں حساس جوہری و اسلحہ مراکز پر حملے کا دعویٰ

  1. اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں سینٹری فیوج کی پیداوار اور اسلحے کی تیاری کے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹری فیوج ایسی مشینیں ہوتی ہیں جو یورینیم کو افزودہ کرتی ہیں۔ افزودہ یورینیم کو بجلی گھر چلانے کے لیے ایندھن بنانے کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ نطنز ایران میں یورینیئم کی افزودگی کا اہم مقام ہے، جو تہران سے تقریباً 250 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ پلانٹ فروری 2007 سے کام کر رہا ہے۔

    یہ سہولت تین بڑی زیر زمین عمارتوں پر مشتمل ہے، جو 50,000 سینٹری فیوجز کو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس وقت وہاں تقریباً 14,000 سینٹری فیوجز نصب ہیں، جن میں سے تقریباً 11,000 کام کر رہے ہیں، تاکہ یورینیم کو مخصوص حد تک صاف کیا جا سکے۔

    عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے جمعے کے روز بی بی سی کو بتایا کہ ایران کے زیرِ زمین یورینیم افزودگی کے پلانٹ نطنز میں موجود سینٹری فیوجز اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اگر مکمل طور پر تباہ نہ بھی ہوئے ہوں تو بھی شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہنگامی میٹنگ ایک گھنٹہ اور 20 منٹ تک جاری رہی۔ بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق ہنگامی اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ آیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ ایرانی نیوکلیئرسائٹس پر حملہ کرنا چاہیے کہ نہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق نہیں ہے۔

    کئی دنوں تک ایران کو مذاکرات میں واپس آنے کی ترغیب دینے کے بعد صدر ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا امریکہ کو براہ راست ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونا چاہیے۔

    امریکی قومی سلامتی کونسل کے کل ہونے والے اجلاس میں ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔

    ایک ممکنہ ہدف فورڈو میں یورینیم کی افزودگی کا مقام بھی ہو سکتا ہے جو زیر زمین موجود ہے اور اسے تباہ کرنے کی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔

    سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر کے مشیر ابھی تک آگے کے لائحہ عمل کے حوالے سے منقسم ہیں اور ان میں تا حال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

    امریکی اور اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو فون کیا تاہم بی بی سی ابھی تک اس بات چیت کے متن کی تصدیق نہیں کر سکا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button