لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق صاف اور پائیدار ماحولیاتی نظام کے قیام کے لیے محکمہ تحفظ ماحولیات نے صوبہ بھر میں مربوط کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
محکمہ کے مطابق 7 سے 11 جولائی 2025 کے دوران ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 20 غیر زگ زیگ بھٹوں کو مکمل طور پر گرا دیا گیا، جبکہ 36 بھٹوں کو سیل کر دیا گیا۔ بھٹہ مالکان کے خلاف 40 مقدمات درج کیے گئے اور مجموعی طور پر پندرہ لاکھ پچاس ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
اسی عرصے میں صوبہ بھر کے 787 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 28 کو سیل کیا گیا اور 4 کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد فضائی و آبی آلودگی پر قابو پانا ہے۔
ممنوعہ پلاسٹک بیگز کے خلاف جاری مہم کے دوران اب تک 3055 شہریوں نے ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنے کا حلف اٹھایا، جو عوامی سطح پر ماحولیاتی شعور میں اضافے کا مظہر ہے۔
ماحول کے تحفظ کے لیے ای پی اے پنجاب نے 5 روزہ مہم کے دوران 52 ویسٹ واٹر اور 5 سر فیس واٹر سیمپلز حاصل کیے، جبکہ 17 صنعتی مقامات کی اسٹیک ایمیشن مانیٹرنگ بھی کی گئی تاکہ فضائی آلودگی کی نگرانی کی جا سکے۔
دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی مہم جاری ہے، اور اب تک 5124 گاڑیوں کے ایگزاسٹ سسٹمز کا جائزہ لیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
مزید برآں، 24 پیٹرول پمپس کا معائنہ کیا گیا اور 45 فیول سیمپلز چیک کیے گئے، جن میں سے 39 کو معیاری اور 6 کو غیر معیاری قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے فیول سپلائی کے معیار کو یقینی بنانے کی خصوصی ہدایات دی ہیں۔
پانی کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اب تک 61 سروس اسٹیشنز پر واٹر ری سائیکلنگ سسٹم نصب کیے جا چکے ہیں، جو پانی کے دانشمندانہ استعمال کی جانب ایک مؤثر قدم ہے۔
0 0 1 minute read




