خیبر پختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی حلف برداری میں رکاوٹ کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا، جس کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی کو حلف لینے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ عدالتی حکم پر فیصل کریم کنڈی نے اراکین اسمبلی سے حلف لیا
عدالت کا فیصلہ اور پس منظر
پشاور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین نے پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے سامنے درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کے پی اسمبلی اجلاس کورم کی نشاندہی کے باعث ملتوی ہو گیا، جس کے باعث اراکین حلف نہ اٹھا سکے۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی عدالت عالیہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا، جس میں حلف برداری کی راہ ہموار کرنے کی درخواست کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان اراکین کا حلف نہ لیا گیا تو سینیٹ انتخابات کا انعقاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
گورنر کا ردعمل
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ منتخب ارکان کو حلف سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتخب نمائندوں کا حلف لینا ان کا آئینی حق ہے، رکاوٹیں افسوسناک اور جمہوری عمل کا مذاق ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہیں حلف برداری کا اختیار سونپا گیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں کیا ہوا؟
خیبر پختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لیے طلب کردہ اجلاس میں دو گھنٹے تاخیر کے بعد کورم کی نشاندہی کر دی گئی، جس کے نتیجے میں اجلاس 24 جولائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کی جبکہ کورم کی نشاندہی حکومتی رکن شیر علی آفریدی نے کی۔
حکومتی اراکین کی اس کارروائی کو ناقدین نے دانستہ رکاوٹ قرار دیا، تاکہ مخصوص نشستوں پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین حلف نہ اٹھا سکیں اور سینیٹ انتخابات سے پہلے ایوان مکمل نہ ہو۔




