پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) نے "بجٹ 2025–26: قوم کے خوابوں کا خاکہ” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا۔
اس میں ماہرین معاشیات، پالیسی سازوں، اور کاروباری شخصیات نے بجٹ کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس میں موجود خامیوں پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر محمود خالد نے حکومتی استحکام کی کوششوں کو سراہا مگر نشاندہی کی کہ صرف استحکام کافی نہیں، شفافیت، اعتماد اور اسٹریٹجک وژن کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کو محض اکاؤنٹنگ نہ بنائیں، بلکہ اصلاحات کا عملی ذریعہ بنایا جائے۔
محصولات اور اصلاحات: نیا زاویہ اپنانے کی ضرورت
پرائم انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر علی سلمان نے بجٹ میں محصولاتی اہداف کو حقیقت پسندانہ قرار دیا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھانے کے بجائے نئے سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے سادہ، واضح اور مساوی ٹیکس پالیسی، صوبوں کو اختیارات کی منتقلی، اور کارکردگی پر مبنی بجٹ کی تقسیم کی سفارش کی۔
ماحول دوست ترقی اور ٹیکنالوجی کی شمولیت
ڈاکٹر صفدر سہیل نے کہا کہ بجٹ کو گرین اکنامی، ڈیجیٹلائزیشن اور علاقائی تجارت کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے۔
انہوں نے سرکلر اکنامی، مصنوعی ذہانت، اور پائیدار ترقی کے اصولوں کو بجٹ کا حصہ بنانے پر زور دیا۔
پائیڈ کی ڈاکٹر حفصہ حنا نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام استحکام لایا مگر ترقیاتی منصوبہ بندی کو محدود بھی کرتا ہے۔
انہوں نے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا مگر امید ظاہر کی کہ مربوط پالیسیوں سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
کاروباری برادری کی اپیل: پالیسی میں تسلسل ہو
آئی سی ایم اے کے قاضی صاحب اور اسلام آباد چیمبر کے رمضان صاحب نے کہا کہ کاروبار دوست اور مستحکم پالیسیاں وقت کی ضرورت ہیں۔
انہوں نے اچانک اقدامات، جیسے ای-انوائسنگ، اور زیادہ ٹیکس شرحوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔
مقررین نے کھلی اور مقابلہ جاتی مارکیٹ، پالیسی استحکام، اور سرمایہ کاری میں سہولت دینے پر زور دیا۔
سیمینار کا اختتام ان تجاویز پر ہوا کہ اصلاحاتی فریم ورک URAAN کو اپنایا جائے، ٹیکس نظام کو ڈیجیٹائز کیا جائے، صوبوں کو بااختیار بنایا جائے، اور بجٹ میں سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے۔




