پاکستان

اسلام آباد: جوڈیشل کمپلیکس کے باہر دہشت گردی کا دھماکہ، مقدمہ درج، تحقیقات جاری

اسلام آباد: اسلام آباد کی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد تھانہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، مقدمہ سرکار کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مختلف سیکشنز میں درج کیا گیا ہے، جس میں قتل، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات شامل ہیں۔

ایف آئی آر میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی دھماکے سے پیدا ہونے والے خوف و ہراس اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کو فرانزک ٹیموں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کچہری دھماکے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی میتیں پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کارروائی کے بعد ان کے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ پمز ہسپتال کے ذرائع کے مطابق، دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 13 افراد زیر علاج ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ اس کے علاوہ، 36 زخمیوں کو پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جن میں وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی شامل تھی، جسے ہسپتال انتظامیہ نے ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، دھماکے میں افغان اور بھارتی پراکسیوں کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ دھماکہ عدالت کے باہر پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش میں کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 36 زخمی ہوئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button