دادو، ٹھٹھہ، سکھر:دریائے سندھ میں مسلسل اضافے کے باعث سندھ کے کئی اضلاع میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ دادو کے کچے کے متعدد دیہات سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جہاں مقامی باشندے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیلابی پانی کے باعث فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں اشیاء خورونوش، ادویات اور مویشیوں کے چارے کی شدید قلت نے صورتحال مزید ابتر کر دی ہے۔ مختلف وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے سے مقامی آبادی کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ٹھٹھہ کے سجاول کے مقام پر دریائے سندھ کا سیلابی ریلا 3 لاکھ 6 ہزار کیوسک کی رفتار سے سمندر کی جانب رواں دواں ہے، جو کچے کے علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بنا ہوا ہے۔ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 41 ہزار کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر ریکارڈ 4 لاکھ 20 ہزار کیوسک پر پہنچ چکی ہے۔ گڈو بیراج پر سیلابی بہاؤ میں کمی آئی ہے اور یہ 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔
حکام نے متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔




