راولپنڈی میں طوفانی بارش کے بعد نالہ لئی اور دریائے سواں میں طغیانی نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی۔ انتظامیہ نے فوری طور پر رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں سائرن بجا کر قریبی آبادیوں کو انخلا کے احکامات جاری کر دیے۔
متاثرہ علاقے اور نقصانات
اڈیالہ روڈ پر شدید طغیانی کے باعث 20 سے زائد دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا، کئی دیہات زیرآب آ گئے۔
نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوئی، بعد ازاں کمی آنا شروع ہو گئی۔
موتی بازار میں پانی دکانوں میں داخل ہونے سے کروڑوں روپے کا سامان تباہ ہو گیا۔
سہام میں ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی، ڈھوک بدبال میں گھر کا گیٹ اور متعدد گاڑیاں پانی کی نذر ہو گئیں۔
جی ٹی روڈ، فیض آباد انٹرچینج اور بنی چوک سمیت مختلف مقامات پر ٹریفک متاثر، شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات۔
حکومتی اقدامات
آج شہر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں نے فوری ریسپانس دیتے ہوئے 20 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ چکری، لادیاں، ریس کلب کے زیر آب علاقوں میں کشتیاں روانہ کر دی گئیں۔ چوڑی چوک اور صادق آباد میں سیلابی پانی گھروں میں داخل، سڑکیں و گلیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔
موجودہ صورتحال
پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے مگر متعدد نشیبی علاقے اب بھی زیر آب ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق مسلسل بارش کے پیش نظر مزید بارشوں کی صورت میں الرٹ برقرار رہے گا اور ریسکیو ادارے مکمل تیار ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں۔
0 7 1 minute read




