اسلام آباد / نیویارک / لندن : بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین، سفارتکار اور بین الاقوامی تنظیمیں اس اقدام کو جنوبی ایشیا میں ممکنہ آبی تنازعے اور عدم استحکام کی جانب ایک خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قانون، سفارتی ضوابط، اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت پر دنیا کی نظریں ایک بار پھر برصغیر کی حساس صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہیں۔برطانوی ایوانِ لارڈز کے متعدد اراکین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنا کروڑوں افراد کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے فوری مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی معاہدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔
دوسری جانب چین نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازعہ دیگر بالائی ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ آبی معاہدوں کی خلاف ورزی عالمی سطح پر نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے بھارت کے رویے کو ’’معاہدہ شکنی کی خطرناک نظیر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو عالمی آبی نظام متاثر ہو سکتا ہے، اور آئندہ دہائیوں میں آبی جنگوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا علاقائی امن کے لیے خطرناک ہے۔ دفتر خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو اس خلاف ورزی پر جوابدہ بنائے اور معاہدے کی بحالی کو یقینی بنائے۔




