پاکستان میں چینی کی قیمت میں بار بار ہونے والا اضافہ ایک معاشی بحران سے زیادہ، ریاستی طاقت اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کی عکاسی بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں چینی کی قیمت 210 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، حالانکہ حکومت نے چند ہفتے قبل دعویٰ کیا تھا کہ چینی 165 روپے فی کلو پر دستیاب ہوگی۔
جولائی 2024 میں وفاقی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ شوگر ملز 165 روپے فی کلو پر ہول سیلرز کو چینی فراہم کریں گی۔ تاہم طے شدہ نرخ نافذ العمل ہونے سے پہلے ہی پسِ پشت ڈال دئیے گئے، اور چینی کی قیمت 175 روپے سے اوپر چلی گئی، جبکہ ہول سیل مارکیٹوں میں رسد کی کمی برقرار رہی۔ اس دوران شہریوں کو کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں چینی 200 روپے سے زائد میں خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔
یہ بحران صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اس طاقتور نظام کی عکاسی کرتا ہے جو مخصوص طبقے کے مفادات کی نگہبانی کرتا ہے، جبکہ عوامی بہبود محض دعوؤں تک محدود رہتی ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں پر قابو پانے کی کوششیں عملی طور پر دکھاوے کی اصلاحات سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہو سکیں۔
حکمران اتحاد میں شامل بااثر خاندان ملک کی بڑی شوگر ملوں کے مالک ہیں۔ یہی افراد اقتصادی پالیسیوں کے خالق بھی ہیں، جو ایک واضح مفادات کے ٹکراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ پالیسی سازی اور نجی منافع کا یہ امتزاج شفاف گورننس کے تمام اصولوں کی نفی کرتا ہے۔
حکومت نے اس سال کے آغاز میں چینی کی برآمدات کی اجازت دی، باوجود اس کے کہ ملکی ذخائر کمزور تھے۔ اس کے بعد، قیمتیں بڑھنے پر 500,000 میٹرک ٹن چینی ڈیوٹی فری درآمد کی گئی۔ اس اقدام کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے شفافیت کے فقدان کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا۔
نا تو یہ واضح کیا گیا کہ درآمدی لائسنس کس کو دیے گئے، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ فیصلے کن بنیادوں پر کیے گئے۔ عوام کو مہنگی چینی ملتی رہی جبکہ چند مخصوص طبقات کو دوہرا منافع حاصل ہوا، پہلے برآمدات سے، پھر ڈیوٹی فری درآمدات سے۔
ملک میں ریگولیٹری ادارے جیسے مسابقتی کمیشن (CCP) اور ایف بی آر اس تمام صورتحال میں مکمل طور پر غیر فعال نظر آئے۔ نہ کسی مل کے خلاف کارروائی کی گئی، نہ ہی قیمتوں میں کارٹیلائزیشن پر کوئی انکوائری سامنے آئی۔
یہ بحران نیا نہیں۔ 2020 میں پی ٹی آئی کی حکومت کو بھی اسی نوعیت کے چینی اسکینڈل کا سامنا تھا۔ تاہم اُس وقت وزیرِاعظم عمران خان نے بھرپور تحقیقات کا حکم دیا، جن میں اپنے اتحادیوں تک کو شامل کیا گیا۔ رپورٹ شائع ہوئی اور کچھ حد تک احتساب کا تاثر ابھرا۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں صورتحال برعکس ہے۔ ذمہ داروں کو تحفظ حاصل ہے اور کارروائی کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔
چینی صرف ایک ذائقہ نہیں، روزمرہ کے اخراجات کا اہم جزو ہے۔ اس کی قیمت میں اضافے نے متوسط طبقے کے بجٹ کو مزید دبا دیا ہے۔ چھوٹے کاروبار، بیکریاں، چائے کے ہوٹل اور دکاندار براہ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ مسئلہ عارضی پالیسی یا پرائس کنٹرول سے نہیں، بلکہ ساختی اصلاحات سے حل ہوگا۔ جب تک پبلک آفس ہولڈرز اور ان کے خاندانوں کو ریگولیٹ کی جانے والی صنعتوں میں ملکیت رکھنے سے نہیں روکا جائے گا، پالیسی ہمیشہ اشرافیہ کے مفاد میں رہے گی، نہ کہ عوام کے۔
0 13 2 minutes read




