پاکستان

نو مئی کیس: اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کو 10 سال قید کی سزا

سرگودھا میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نو مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے مقدمے میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف احمد خان بھچر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی۔

عدالت نے میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں ہنگامہ آرائی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں 39 افراد کو مجرم قرار دیا، جن میں رکن قومی اسمبلی احمد چھٹہ اور بلال اعجاز بھی شامل ہیں۔

تمام ملزمان اس مقدمے میں ضمانت پر تھے، تاہم فیصلے کے بعد عدالت نے انہیں گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی سے متعلق مجموعی طور پر چھ مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں سے ایک کا فیصلہ سنا دیا گیا، جبکہ باقی پانچ کیسز حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

دیگر شہروں میں بھی فیصلے متوقع
نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات صرف سرگودھا تک محدود نہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی انسداد دہشت گردی کی عدالتیں انہی نوعیت کے کیسز کی سماعت کر رہی ہیں، جن میں متعدد معروف رہنما نامزد ہیں۔ ان میں عمران خان، شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اور اعجاز چوہدری شامل ہیں۔
عدالتوں میں ان مقدمات پر دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور فیصلے جلد متوقع ہیں۔

احمد خان بھچر کا ردعمل
احمد خان بھچر نے سرگودھا کی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "تحریری فیصلہ موصول ہوتے ہی اپیل دائر کروں گا۔ ہم قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

پس منظر: نو مئی 2023 کے واقعات
عمران خان کی 9 مئی 2023 کو اسلام آباد میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے، جن کے دوران سرکاری و عسکری اداروں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں شروع کیں اور متعدد مقدمات قائم کیے گئے۔
اان واقعات کے بعد تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت سمیت ہزاروں کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، جن میں سے 100 سے زائد افراد کے کیسز فوجی عدالتوں میں چلائے گئے، اور ان میں سے کئی کے فیصلے بھی آ چکے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button