بین الاقوامی

دہلی میں خاتون کی سربراہی میں منشیات کا نیٹ ورک بے نقاب، مودی حکومت پر سوالات

 

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ایک منظم منشیات فروش نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے جس کی سربراہی ایک خاتون کر رہی ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی کارروائی میں ملزمہ کوسم کے گھر سے 550 ہیروئن پیکٹس، نشہ آور گولیاں، 14 لاکھ روپے نقد، دو کروڑ روپے مالیت کے اثاثے اور ایک قیمتی گاڑی برآمد کی گئی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق، کوسم نے دہلی کے علاقے سلطان پوری میں چار رہائشی یونٹس کو جوڑ کر ایک غیر قانونی چار منزلہ عمارت تعمیر کر رکھی تھی، جہاں منشیات کی ترسیل اور تقسیم کا کام جاری تھا۔

کوسم کے خلاف ماضی میں 12 مقدمات درج ہو چکے ہیں، تاہم عدالتی و تفتیشی نظام کی خامیوں کے باعث وہ ہر بار قانون کی گرفت سے بچتی رہی۔ پولیس کو یہ بھی شبہ ہے کہ کوسم کی بیٹیوں کے اکاؤنٹس میں ہونے والی مشکوک ٹرانزیکشنز اسی منشیات نیٹ ورک سے متعلق ہیں، جن پر وہ کوئی تسلی بخش وضاحت دینے میں ناکام رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دعووں کے برعکس دہلی جیسے اہم شہر میں منشیات کا اس قدر پھیلا ہوا نیٹ ورک ملک کے قانونی، عدالتی اور انتظامی نظام کی ناکامی کا عکاس ہے۔ بھارت میں بڑھتی غربت، بے روزگاری اور کمزور نظام قانون کے باعث مافیا گروہ خواتین اور بچوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

مودی حکومت کے "وکست بھارت” کے ترقیاتی دعووں کے برعکس، دہلی جیسے دارالحکومت میں منشیات، جرائم اور سماجی زوال کی خبریں بھارت کی عالمی ساکھ پر کاری ضرب ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، اربوں روپے کے دفاعی بجٹ کے باوجود مودی حکومت دارالحکومت میں منشیات فروش نیٹ ورک کو روکنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button