لاہور اور سرگودھا میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے سانحہ نو مئی کے مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں، جن میں یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف احمد خان بھچر شامل ہیں، سمیت 44 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔
عدالت نے طویل عدالتی کارروائی اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ دوسری جانب، انہی مقدمات میں شامل شاہ محمود قریشی، حمزہ عظیم اور چار دیگر ملزمان کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔ احمد خان بھچر کو قید کے ساتھ ساتھ مختلف دفعات کے تحت 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کے عزم کو عملی تعبیر مل گئی
9 مئی کے واقعات کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے حوالے سے آرمی چیف کے دو ٹوک اور یادگار الفاظ آج بھی قوم کے حافظے میں محفوظ ہیں۔
17 مئی 2023 کو فیلد مارشل سید عاصم منیر نے سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا تھا۔

پاک فوج کےسربراہ نے شہداء کی یادگار پرپھولوں کی چادر چڑھائی تھی اور اپنے خطاب میں شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو شرپسند پوری قوم کے لیے 9 مئی کے سیاہ دن شرم کا باعث بنے، جنہوں نے 9 مئی پر قوم کی توہین کی تھی، ان تمام ذمہ داران کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے رینک اینڈ فائل کے سامنے اس عزّم کو دہرایا تھا کہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پیش آنے والے المناک واقعات کی دوبارہ کسی قیمت پر اجازت نہیں دی جائے گی۔
25 مئی 2023 کو ملک بھر میں "یومِ تکریمِ شہداء” نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ مرکزی تقریب جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی

تقریب سے خطاب میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی اور ان کے وقار کو مجروح کرنے والوں کو قوم نہ معاف کرے گی، نہ بھولے گی۔
آرمی چیف کے ان دوٹوک الفاظ نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج آئین، قانون اور قومی وقار کی سربلندی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بیانات نہ صرف ادارہ جاتی عزم کی غمازی کرتے ہیں، بلکہ عوامی جذبات اور قومی وحدت کی بھی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں۔
اس سے قبل 9 مئی کے سانحے میں ملوث 25 افراد کو فوجی عدالتوں سے بھی 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں
9 مئی 2023 کو ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کے نام پر منظم اور پُرتشدد کارروائیوں میں سرکاری و عسکری تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔ حکومتی ڈیٹا کے مطابق 200 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حساس دفاتر اور یادگاریں شامل تھیں۔
ان واقعات کی ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج بعدازاں عدالتوں میں ثبوت کے طور پر پیش کی گئیں، جن کی روشنی میں مجرموں کو قرار واقعی سزائیں سنائی گئیں، اور یوں ریاست نے انصاف کے تقاضے پورے کیے۔




