نئی دہلی :مودی سرکار کے دور میں بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور انصاف کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ سرکاری نعرہ بازی جیسے "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” محض دعوے ثابت ہوئے ہیں، جبکہ زمینی حقائق ان نعروں سے کوسوں دور ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست اڈیشہ کے جگت سنگھ پور میں ایک 18 سالہ لڑکی کو سالگرہ کی تقریب سے واپسی کے دوران اغوا کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ لڑکی اپنی دوست کے ہمراہ گھر جا رہی تھی جب دو ملزمان نے اسے اغوا کیا۔ متاثرہ لڑکی کے والد کے مطابق ملزمان نے اسے کھیت میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ لڑکی کی سہیلی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔
متاثرہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں زیر علاج ہے۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج جاری ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ مودی حکومت گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مودی حکومت کے دور کو بھارت میں خواتین کے لیے "خونی قید خانہ” قرار دے رہی ہیں، جہاں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں اور انصاف محض ایک خواب بن چکا ہے۔




