تہران : ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی وساطت سے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تہران میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا مسلسل تبادلہ ہو رہا ہے، جو کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد سے جاری ہے۔مذاکراتی عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور بات چیت کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد جلد تہران کا دورہ کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا کہ ایران چند روز میں ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کا سرے سے وجود ہی نہیں، اسے بنیاد بنا کر ایران کو نشانہ بنانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ تہران، لبنان کی مزاحمتی تحریک کی حمایت کے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔




