واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدہ مکمل ہو گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک مل کر تیل کے ذخائر کی تلاش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ آئل کمپنی تشکیل دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو خطے میں توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ممکن ہے ایک دن پاکستان، بھارت کو بھی تیل فروخت کرے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر منظر عام پر لائی جائیں گی۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر دیگر عالمی تجارتی معاہدوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاپان کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ یورپی یونین سے بھی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کوشش کر رہے ہیں، جس سے امریکی تجارتی خسارے میں کمی آئے گی۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے بھارت پر یکم اگست سے 25 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی تجارتی پالیسیاں سخت اور یک طرفہ ہیں، اور اگر وہ ٹیرف ادا نہ کر سکا تو بھاری جرمانے کا سامنا کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے بھارت پر روس سے بڑے دفاعی سودے کرنے اور توانائی کی درآمد میں چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہونے پر بھی تنقید کی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایپل کمپنی کو خبردار کیا ہے کہ اگر آئی فونز امریکہ میں تیار نہ کیے گئے تو انہیں بھی 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر کا کہنا تھا کہ امریکی مصنوعات، امریکی سرزمین پر تیار ہونی چاہییں۔
ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکہ کی سخت گیر تجارتی پالیسی اور "امریکہ فرسٹ” حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا مقصد ملکی صنعت کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر تجارتی توازن بحال کرنا ہے۔




