پاکستان

خیبرپختونخوا پولیس کے 55 برسوں میں 2,330 اہلکار شہید، 2009 سب سے خونریز سال قرار

یومِ شہداء کے موقع پر خیبر پختونخوا پولیس نے گزشتہ 55 برسوں میں دہشت گردی اور دیگر پُرتشدد واقعات میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے اعداد و شمار جاری کر دئیے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، 1969 سے 2024 تک صوبے میں مجموعی طور پر 2 ہزار 330 پولیس اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
دستاویز کے مطابق سال دو ہزار نو خیبرپختونخوا پولیس کے لیے سب سے خونریز ثابت ہوا، جہاں دو سو دس اہلکار شہید ہوئے۔ اس کے بعد دو ہزار آٹھ میں ایک سو بہتر، دو ہزار چوبیس میں ایک سو تریسٹھ، دو ہزار گیارہ میں ایک سو چون، اور دو ہزار تیرہ میں ایک سو پینتیس اہلکاروں کی شہادتیں رپورٹ ہوئیں۔ اسی طرح دو ہزار چودہ میں ایک سو گیارہ اور دو ہزار دس میں ایک سو آٹھ پولیس اہلکار مختلف کارروائیوں اور حملوں میں شہید ہوئے۔
دستاویز میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ شہید اہلکاروں میں نہ صرف جوان بلکہ اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔
دو ایڈیشنل انسپکٹر جنرلز (ایڈیشنل آئی جی)، دو ڈپٹی ڈی آئی جیز، ایک ایس ایس پی، چھ ایس پیز اور تئیس ڈی ایس پیز نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
خیبرپختونخوا میں پولیس فورس دہشت گردی کے خلاف صف اول میں کھڑی رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پولیس اہلکاروں کو نہ صرف شدت پسندوں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنا پڑا، بلکہ ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں، خودکش حملوں اور سڑک کنارے نصب آئی ای ڈیز جیسے خطرات کا بھی سامنا رہا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button