اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل پریس کلب کے باہر جاری دھرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ مظاہرین سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے اور انہیں آگاہ کیا جائے کہ اس مقام پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آیا مظاہرین نے احتجاج کے لیے اس جگہ اجازت حاصل کی تھی؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے اعتراف کیا کہ مظاہرین نے کسی قسم کی پیشگی اجازت نہیں لی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب بھی مظاہرین کو ہٹایا جاتا ہے، وہ کچھ ہی دیر بعد دوبارہ وہیں آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔
چیف جسٹس کے انتظامیہ سے سخت سوالات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ آپ جو اقدامات کر رہے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ دوسرے فریق کی پراپرٹی کا تحفظ بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کس قانون کے تحت آپ کسی دوسرے فریق کی پراپرٹی کو بلاک کرنے کی اجازت دے رہے ہیں؟
سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ مظاہرین کو متبادل جگہ پر احتجاج کرنے کی پیشکش کی جا سکتی ہے، تاکہ دیگر شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر کوئی تاخیر یا ناکامی نہ ہو، اور مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ہم نے اگر پندرہ دن دئیے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پندرہ دن بعد ہی کچھ کریں۔ سنجیدہ اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
0 6 1 minute read




