برسلز: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ حقیقی سیاسی مفاہمت کا آغاز خلوصِ نیت سے کی گئی معافی سے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معافی مانگنے والے افراد فرشتوں کے مانند ہوتے ہیں، جبکہ ہٹ دھرمی اور انکار کی روش شیطانی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے یہ گفتگو ایک نجی تقریب میں معروف کالم نگار سے تبادلہ خیال کے دوران کی، جہاں انہوں نے ملک میں اقتدار کی تبدیلی سے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عناصر جو "تبدیلی” کے نام پر بیک وقت حکومت اور مقتدرہ کو نشانہ بناتے ہیں، درحقیقت ملک کی ترقی اور استحکام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
سید عاصم منیر نے واضح کیا کہ انہیں ربّ العزت نے اس ملک کی حفاظت کا فریضہ سونپا ہے اور ان کی کسی عہدے یا منصب کی خواہش نہیں ہے۔ ان کا واحد مقصد وطنِ عزیز کے عوام کی خدمت اور ریاستی استحکام کا تحفظ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار کی منتقلی اگرچہ بعض حلقوں کا موضوعِ گفتگو ہے، مگر اس کے لیے دل سے معافی مانگنا، افہام و تفہیم، اور سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ "سیاسی استحکام صرف اسی وقت ممکن ہے جب انا کو پسِ پشت ڈال کر ملکی مفاد کو ترجیح دی جائے،” ان کا کہنا تھا۔




