اسلام آباد: کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی ۱۳ سالہ بیٹی رضیہ سلطان نے عالمی برادری سے اپنے والد کی پھانسی روکنے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے جذباتی پیغام میں رازیہ نے دنیا کے اہم رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ ان کے والد کے خلاف بھارتی حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کو ختم کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کو بھارت کی جانب سے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ہے اور انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یاسین ملک کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز بنے ہوئے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے بھارتی حکام کی سخت گرفت میں ہیں۔ اب وہ موت کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں، جس کا فیصلہ ۱۰ نومبر کو بھارتی عدالتوں میں سنایا جائے گا۔
رضیہ کی یہ اپیل نہ صرف ایک بچی کا دردناک فریاد ہے بلکہ عالمی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ضمیر کو جھنجوڑنے والی صدا بھی ہے کہ وہ فوری طور پر اس ناانصافی کو روکیں۔
انہوں نے کہا،
"میرا والد بے گناہ ہے۔ وہ صرف امن اور انصاف کی بات کرتے رہے، اور اب انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا چاہتے ہیں۔”
ان کے اس پیغام کو سوشل میڈیا پر #SaveRaziyahsPapa، #FreeYasinMalik اور #KashmiriLivesMatter جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ وسیع پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔
عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی بھارت کی اس مقدمے بازی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے اور اس معاملے میں شفافیت اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
رضیہ سلطان کی اپیل ایک عالمی آزمائش بھی ہے کہ کیا دنیا کشمیر میں ایک اور ناانصافی کو خاموشی سے دیکھے گی یا انصاف کے لیے آواز اٹھائے گی۔




