پاکستان

مون سون بارشیں :پاک فوج کاسیلاب زدہ علاقوں میں بھرپورامدادی آپریشن جاری،ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بڑی تباہی مچائی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری، اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ میں صورتحال سے آگاہ کیا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ اب تک 670 افراد جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 17 اگست سے اب تک 25 ہزار لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 23 اگست تک مزید بارشیں ہونے کا امکان ہے، جس کے لیے تمام ادارے تیار ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کی جانب سے ہدایت پر فوج، ریسکیو ٹیمیں اور ہیلی کاپٹرز سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اب تک 6000 سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ خیبرپختونخوا میں فوج کی دو انجینئر بٹالین اور تین میڈیکل یونٹس کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کے پی میں 90 سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں، لیکن کئی راستے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔ فوج کا ایک دن کا راشن متاثرین کے لیے مختص کر دیا گیا ہے، اور راشن کی ترسیل سڑکوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ شہروں میں اربن فلڈنگ کی وجہ سے لوگ اور ان کی املاک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ریلیف آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔ شانگلہ، سوات اور باجوڑ میں بجلی کا نظام خراب ہوا تھا، جس کا 70 فیصد حصہ بحال کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مالاکنڈ، بشام روڈ اور این-90 شاہراہ بھی بحال ہو چکی ہیں۔ اب تک 1200 خیمے، ادویات اور میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ اسپتالوں سے خصوصی ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی روانہ کی گئی ہیں۔

آخر میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ سیلاب کی بڑی وجہ شمالی علاقوں میں گلیشیئر کا پگھلنا اور کلاؤڈ برسٹ ہے۔ سڑکوں کی بحالی کا آدھا کام مکمل ہو چکا ہے، اور نقصان کا مکمل جائزہ لینے کے بعد رپورٹ حکومت کو دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے، پاک فوج اور تمام ادارے مل کر اس مشکل وقت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ہم سب متحد ہیں اور انشاءاللہ اس آزمائش پر قابو پا لیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button