تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ
پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو اپنے آئین کی روح سے ایک فلاحی ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 38 ریاست کو یہ عہد یاد دلاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے معیار زندگی کو بلند کرے، روزگار کے مواقع فراہم کرے اور بیماری یا معذوری کی صورت میں علاج اور ادویہ کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ مگر افسوس کہ یہ آئینی عہد اب محض خوشنما الفاظ کی صورت میں کتابوں کے اوراق پر زندہ ہے۔ زمینی حقیقت اس سے یکسر مختلف اور دل خراش ہے۔
صحت کا شعبہ اس وقت زوال کی ایسی کھائی میں جا گرا ہے جہاں روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی مسیحائی کے مراکز سمجھے جانے والے ہسپتال آج بے بسی اور بدنظمی کی تصویریں بن چکے ہیں۔ علاج معالجے کی سہولتیں ناپید ہیں، ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ جو شفا کی بنیاد ہوتا ہے، ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ مگر سب سے بڑا المیہ دواؤں کی قیمتوں کا ہے، خصوصاً وہ ادویہ جو زندگی اور موت کے درمیان حائل آخری رکاوٹ ہوتی ہیں، وہ ادویہ اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ عام آدمی کے لیے اب محض ایک خواب بن گئی ہیں۔
یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں بلکہ خود وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اس تلخ سچائی کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ادویہ کی قیمتوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ عوام کے لیے کسی رحمت کے بجائے زہرِ قاتل ثابت ہوا ہے۔ وزیر صحت کے بقول جو دوا سات روپے میں دستیاب ہونی چاہیے تھی، وہ آج ستر روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ یہ محض ایک دوا کا احوال نہیں ہے بلکہ ہزاروں اقسام کی ادویہ کا یہی حال ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں ہے۔ ابتدائی حساب سمجھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ ایک ہزار فیصد سے بھی بڑھ کر اضافہ ہے اور یہ محض اضافہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا زخم جو ہر بیمار کے دل پر گہرا وار کرتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دواؤں کی صنعت پر ایک طاقتور مافیا قابض ہے، ایک ایسا گٹھ جوڑ جو انسانی مجبوریوں کو سونے کے سکوں میں تول رہا ہے اور اپنی تجوریوں کو لبالب بھر رہا ہے۔ یہ کارٹل اتنا اثرورسوخ رکھتا ہے کہ حکومتی ادارے بھی اس کے سامنے مہرے دکھائی دیتے ہیں یا پھر شاید دونوں کے درمیان کسی خاموش مفاہمت کا سایہ ہے۔
اس بحران کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل اور حکمت عملی کا فقدان ہے۔ ادویہ کی قیمتوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ بظاہر عوام اور صنعت دونوں کے مفاد میں دکھایا گیا تھا مگر اس کے پیچھے کوئی مضبوط نگرانی کا نظام وضع نہیں کیا گیا تھا۔ جب قیمتوں کا تعین "اندھی منڈی” کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو منافع کی ہوس رکھنے والے سرمایہ دار اخلاقیات کو کبھی بھی اپنی منزل نہیں بناتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قیمتوں کی آزادی دراصل مہنگائی کی غلامی میں بدل گئی اور ریگولیشن کا مسئلہ ایک غیر ریگولیٹڈ طوفان میں ڈھل گیا۔
دوسرا المیہ حکومتی نگرانی اور احتساب کے نظام کی موت ہے۔ وزیر صحت کہتے ہیں کہ "سروے ہو رہا ہے، کارٹل بنانے والوں کے خلاف کارروائی رپورٹ آنے کے بعد ہوگی”۔ یہ بیان عوام کے زخموں پر مرہم نہیں بلکہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کیا اتنی بڑی پالیسی نافذ کرنے سے پہلے اس کے اثرات کا کوئی مطالعہ نہیں کیا جا سکتا تھا؟ کیا ادویہ سازی کی صنعت میں ہونے والی بدنظمی اور بے ضابطگی پر نظر رکھنے والے ادارے اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ انہیں یہ معلوم ہی نہ ہوا کہ سات روپے کی دوا ستر روپے میں بک رہی ہے؟
یہ سوالات محض سوال نہیں بلکہ یہ آئین کی روح پر دستک ہیں، یہ سوالات وزارت صحت کی نااہلی کا ماتم ہیں اور یہ سوالات عوام کی بے بسی کا نوحہ بھی ہیں۔ عوامی صحت جیسے مقدس معاملے میں یہ بے حسی اور بدانتظامی کسی المیے سے کم نہیں۔ یہ وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کی رگوں میں اُتر رہا ہے اور حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل اور تماشائی بنی بیٹھی محسوس ہوتی ہے۔
تیسرا اور نہایت کربناک پہلو وہ ہے جو براہِ راست غریب عوام کے سینے پر دہکتے انگاروں کی طرح رکھ دیا گیا ہے۔ وہ عام آدمی جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی ابتری کی صلیب پر لٹکا ہوا ہے، اس کے لیے ستر روپے کی دوا خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اپنے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین لے یا علاج معالجے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ وہ کرب ہے جو لاکھوں پاکستانیوں کو ہر روز سہنا پڑ رہا ہے۔ ہسپتالوں کے باہر بینچوں پر بیٹھے نیم جان مریض، ان کے آہوں میں ڈوبے رشتے دار، اس المیے کے جیتے جاگتے استعارے ہیں۔ کوئی باپ اپنے بیمار بچے کی دوا نہ خرید پانے کے عذاب میں تڑپ رہا ہے تو کوئی بیٹا اپنے بوڑھے والدین کا علاج کروانے کے لیے قرض کے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے۔ یہ منظر ہمارے اجتماعی ضمیر پر دستک ہے مگر افسوس کہ یہ دستک بھی کسی کو بیدار نہیں کر پا رہی۔
اس سنگین بحران کا علاج کیا ہے؟ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ حکومت اپنے غلط فیصلے کا برملا اعتراف کرے۔ ادویہ کی قیمتوں کو آزاد کرنے کا یہ تجربہ ناکامی کی ایک تلخ داستان ہے۔ عوامی مفاد میں فوری طور پر قیمتوں پر دوبارہ ریاستی کنٹرول قائم کرنا ناگزیر ہے۔ مگر یہ کنٹرول محض کاغذی نوٹیفکیشن یا رسمی احکامات سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ایک مضبوط، بااختیار اور شفاف ریگولیٹری ادارے کی ضرورت ہے۔ ایسا ادارہ جو ہر دوا کی قیمت کا مکمل اور بروقت ریکارڈ رکھے اور جس میں کسی بھی زیادتی یا استحصال کی صورت میں فوری اور بے لاگ کارروائی کی قوت موجود ہو۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ دواسازی کی صنعت میں رچی بسی بدعنوانی اور کارٹل کے جال کو توڑا جائے۔ وہ کمپنیاں جو من مانی قیمتوں پر عوام کا خون نچوڑ رہی ہیں، ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی ہونی چاہیے۔ بھاری جرمانے، قانونی مقدمات اور سخت ترین اقدامات کے بغیر یہ درندہ صفت نظام قابو میں آنے والا نہیں ہے۔
تیسرا پہلو عوامی سطح پر دواؤں کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو حقیقی معنوں میں مسیحائی کے مراکز بنایا جائے، جہاں غریب اور نادار مریضوں کو مفت ادویہ باآسانی دستیاب ہوں۔ یوں عوام کو پرائیویٹ مارکیٹ کے بے رحم شکنجے پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
ہمیں یہ تلخ حقیقت ذہن نشین کرنی ہوگی کہ صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ایک بیمار قوم نہ ترقی کی منازل طے کرسکتی ہے اور نہ اپنے دفاع کے لیے مضبوط کھڑی ہوسکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی صحت کے اس سنگین بحران پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرے اور محض وقتی اقدامات کے بجائے دیرپا اور ٹھوس اصلاحات متعارف کرائے۔ بصورت دیگر آئین میں درج فلاحی ریاست کا خواب، خواب ہی رہے گا اور آنے والی نسلیں ہمیں اس غفلت اور بے حسی پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔ یاد رکھیں کہ مہذب معاشروں میں اسے غفلت نہیں جرم سمجھا جاتا ہے اور یہ بے حسی نہیں گناہ گردانی جاتی ہے۔
نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے




