بین الاقوامی
Trending

مودی کا ’اسرائیل مشن‘ یا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شراکت داری؟ بھارتی بندرگاہیں امریکی بحریہ کے حوالے کرنے پر عالمی سطح پر بھارت کی جگ ہنسائی

 

نئی دہلی/تل ابیب : بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل نے عالمی سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ایران پر اسرائیل کے متوقع حملے سے عین قبل مودی کی "تل ابیب یاترا” کی ٹائمنگ کو بین الاقوامی میڈیا میں بھارت کے لیے ایک بڑی سفارتی ہزیمت اور شرمندگی قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی اپوزیشن نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا بھارت اب اسرائیل اور امریکہ کے جنگی عزائم کا آلہ کار بن چکا ہے؟۔
ذرائع کے مطابق، مودی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی و تزویراتی امداد کی خفیہ یقین دہانی کرائی ہے۔ اس اقدام نے تہران اور نئی دہلی کے درمیان برسوں پرانے تعلقات کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر نے ایک سنسنی خیز بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس نازک موڑ پر امریکی بحریہ بھارتی بندرگاہوں کو اپنے لاجسٹک مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ انکشاف ثابت کرتا ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کی خود مختاری کو داؤ پر لگا کر اسے ایک بڑے علاقائی تنازع کا حصہ بنا دیا ہے۔
معروف بھارتی نیوز ویب سائٹ "دی وائر” کی رپورٹ کے مطابق، مودی کے اس دورے کا اصل مقصد نیتن یاہو کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ تک رسائی حاصل کرنا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ مودی، نیتن یاہو کے ٹرمپ کے ساتھ قریبی مراسم کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے بھارت کو عالمی سطح پر کتنی ہی سبکی کیوں نہ اٹھانی پڑے۔ بین الاقوامی میڈیا میں مودی کے اس اقدام کو "موقع پرستی اور بزدلانہ ڈپلومیسی” سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button