اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں درآمد ہونے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر 40 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو مرحلہ وار چار سال میں ختم کیا جائے گا۔
یہ اعلان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و صنعت کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا، جہاں جوائنٹ سیکریٹری ٹریڈ پالیسی محمد اشفاق نے بتایا کہ کم معیار اور حادثاتی گاڑیوں کی درآمد پر مکمل پابندی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال پاکستان میں کمرشل بنیادوں پر گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ہے، اور یہ صرف ٹرانسفر آف ریذیڈنس، بیگیج یا گفٹ اسکیم کے تحت ممکن ہے۔ ان اسکیمز کے تحت درآمد ہونے والی گاڑیاں ملک میں صارفین کی تقریباً 25 فیصد طلب کو پورا کرتی ہیں۔
محمد اشفاق کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے تحت ستمبر 2025 سے پانچ سال پرانی کمرشل گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے گی، جبکہ جولائی 2026 تک عمر اور دیگر پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آٹھ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کو بھی آئندہ ممکن بنایا جائے گا، تاہم ماحولیاتی معیارات کو سخت کیا جائے گا تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
ٹریڈ پالیسی حکام کے مطابق پاکستان کو اگلے پانچ برسوں میں مجموعی درآمدی ڈیوٹی کی شرح 20.2 فیصد سے کم کر کے 9.7 فیصد تک لانا ہو گا، جو تقریباً 52 فیصد کمی کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ، آٹو پالیسی کے تحت 35 فیصد کسٹمز ڈیوٹی والی اشیاء پر تمام ڈیوٹیاں جولائی 2026 سے ختم کر دی جائیں گی۔




