لاہور :پاکستان کے دریاؤں میں گزشتہ 38 سالوں میں سب سے زیادہ پانی آنے سے پنجاب میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ دریائے راوی کے جسٹر مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاو 2 لاکھ 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے راوی میں اتنا پانی 1988 کے بعد پہلی مرتبہ آیا ہے۔
آج رات شاہدرہ کے مقام سے ایک بڑا سیلابی ریلا گزرنے کی توقع ہے، جس سے علاقے میں شدید خطرات لاحق ہیں۔ دریائے چناب میں بھی شدید سیلاب آیا ہے، جس کی شدت ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ دریائے چناب کے گردونواح میں 128 دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔
خانکی ہیڈ ورکس سے پانی چند گھنٹوں میں گزر جائے گا لیکن اس سے پہلے پانی کا دباؤ کافی زیادہ ہے۔ دریائے ستلج میں بھی گزشتہ 8 سے 10 روز سے شدید سیلاب کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گنڈا سنگھ میں پانی کی سطح دو لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکی ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک سیلاب رحیم یار خان سے نہیں گزرتا، پنجاب کو سیلاب کا شدید خطرہ رہے گا اور عوام کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔




